'POINT OF ORDER' THE OFFICIAL BLOG OF MOHAMMAD IMRAN KHAN,CEO,PAKISTAN PRESS CLUB
انیس سالہ سرفراز نے پچھلے ماہ میٹرک کا امتحان دیا تھا اور وہ شپنگ کمپنی میں ملازمت کا خواہش مند تھا
کراچی میں رینجرز کی فائرنگ میں ہلاک ہونے والے نوجوان سرفراز شاہ کے اہل خانہ اور پڑوسیوں کا کہنا ہے کہ بجلی جانے کے بعد بینظیر بھٹو پارک میں جانا اس کا معمول تھا۔
سرفراز شاھ صدر ٹاؤن کی کچی بستی ہجرت کالونی کا رہائشی تھا، غریب طبقے کی یہ بستی شہید بینظیر بھٹو پارک سے کوئی ایک کلومیٹر دور ہے۔
انیس سالہ سرفراز شاہ کے بھائی سالک شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ دفتر میں تھے کہ ان کی والدہ کا ٹیلیفون آیا کہ پڑوس کی خواتین نے پارک سے واپسی پر بتایا ہے کہ سرفراز کا کسی کے ساتھ جھگڑا ہوا ہے اور وہ سرفراز کا ٹیلیفون ملا رہی ہیں مگر نمبر بند جارہا ہے۔
سالک شاہ جو سما ٹی وی چینل سے وابستہ ہیں ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے سوچا کہ یہ عام پریکٹس ہے کہ پولیس لوگوں کو ڈرانے دھمکانے کے لیے تھانے لے جاتی ہے اور موبائیل فون بند کرادیتی ہے۔
پوری دنیا نے دیکھا کہ کس طرح میرے بھائی کو مارا گیا ہے:سالک شاہ
ان کا کہنا تھا کہ’میں بوٹ بیسن تھانے پہنچ گیا اور وہاں ڈیوٹی افسر سے پوچھا کہ آپ لوگ میرے بھائی کو تو اٹھاکر نہیں لائے انہوں نے انکار کیا، اس کے بعد میں کلفٹن تھانے گیا مگر وہاں بھی وہ مجھے نہیں ملا۔ میں دوبارہ بوٹ بیسن تھانے پر آیا تو ڈیوٹی افسر نے پوچھا کہ ہوا کیا ہے؟ میں نے اسے بتایا کہ سنا ہے کہ میرے بھائی کا بینظیر بھٹو پارک میں کسی سے جھگڑا ہوا ہے اس نے کہا ہاں رینجرز کے ساتھ جھگڑے میں کوئی لڑکا زخمی ہوا ہے‘۔
سالک شاھ کے مطابق اسی دوران انہوں نے جناح ہپستال اور دیگر دوستوں کو ٹیلیفون کیے اس دوران انہیں پتہ چلا کہ ایک نوجوان جو فائرنگ میں زخمی ہوا تھا فوت ہوگیا ہے، جس پر انہیں نوے فیصد تک یقین ہوگیا تھا کہ اب ان کا بھائی نہیں رہا بس جناح ہپستال پہنچے تو بھائی کی لاش ملی۔
انہوں نے بتایا کہ ’لاش پر دو رینجرز اہلکار پہرا دے رہے تھے ان سے پوچھا کہ یہ کیسے ہوا تو انہوں نے مشورہ دیا کہ ان کے بجائے رینجرز ہیڈکوارٹر سے رابطہ کروں، انہوں نے صرف یہ بتایا کہ میرا بھائی مقابلے میں مارا گیا ہے‘۔
سرفراز شاہ کے دادا پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے باغ سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ برطانوی فوج میں بھی رہے مگر بعد میں انہوں نے کراچی میں مستقل رہائش اختیار کرلی۔
میں نے اپنے طور پر لوگوں سے جو معلومات لی ہیں اس کے مطابق وہاں کوئی لڑکا اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ آیا ہوا تھا، جس سے سرفراز کا جھگڑا ہوا اس میں سی آئی ڈی پولیس کا ایک اہلکار بھی شامل ہوگیا کیونکہ وہ لڑ کا اس کے ذریعے ہی پارک میں آیا تھا
سالک شاہ
سرفراز کے بڑے بھائی سالک شاہ کا کہنا ہے کہ پولیس نے انہیں بتایا کہ سرفراز کے خلاف پونے چھ بجے ایف آئی آر دائر کی گئی ہے جبکہ وہ ساڑھے پانچ بجے تھانے پر پہنچے تھے تو پولیس نے واقعے سے لاعلمی کا اظہار کیا تھا۔
لواحقین نے رینجرز کے خلاف ایف آئی آرر درج کرانے کی کوشش کی مگر کامیابی حاصل نہیں ہوسکی، سالک شاھ کے مطابق اسی دوران خدا نے ان پر مہربانی کی اور ان کی اپنی صحافی برداری کے کیمرہ مین نے اس پورے واقعے کی عکس بندی کرکے سرفراز کو بے گناہ ثابت کردیا۔
انیس سالہ سرفراز نے پچھلے ماہ میٹرک کا امتحان دیا تھا اور وہ شپنگ کمپنی میں ملازمت کا خواہش مند تھا۔
سالک شاھ کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے اپنے طور پر لوگوں سے جو معلومات لی ہیں اس کے مطابق وہاں کوئی لڑکا اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ آیا ہوا تھا، جس سے سرفراز کا جھگڑا ہوا اس میں سی آئی ڈی پولیس کا ایک اہلکار بھی شامل ہوگیا کیونکہ وہ لڑ کا اس کے ذریعے ہی پارک میں آیا تھا۔
’انہوں نے سرفراز کو پہلے مارا پیٹا اور اس کے بعد رینجرز کے حوالے کردیا۔پوری دنیا نے دیکھا کہ کس طرح میرے بھائی کو مارا گیا ہے، گولیاں مارنے کے بعد آدھے سے پونے گھنٹے تک رینجرز اہلکاروں نے اسے وہاں رکھا اور ہپستال نہیں پہنچایا‘۔
سالک شاہ کے مطابق سرفراز وہاں کسی کا کچھ بگاڑنے نہیں بلکہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے تنگ ہوکرگیا تھا۔
- There are no comments yet







