Tags - allama iqbal
چشم اقوام يہ نظارہ ابد تک ديکھے رفعت شان 'رفعنالک ذکرک' ديکھے مردم چشم زميں يعني وہ کالي دنيا وہ تمھارے شہدا پالنے والي دنيا گرمي مہر کي پروردہ ہلالي دنيا عشق وال
جواب شکوہ
اس نئي آگ کا اقوام کہن ايندھن ہے ملت ختم رسل شعلہ بہ پيراہن ہے آج بھي ہو جو براہيم کا ايماں پيدا آگ کر سکتي ہے انداز گلستاں پيدا
جواب شکوہ2
تھے تو آبا وہ تھارے ہي' مگر تم کيا ہو ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہو! کيا کہا ! بہر مسلماں ہے فقط وعدہ حور شکوہ بے جا
جواب شکوہ
دل سے جو بات نکلتي ہے اثر رکھتي ہے پر نہيں' طاقت پرواز مگر رکھتي ہے قدسي الاصل ہے' رفعت پہ نظر رکھتي ہے خاک سے اٹھتي ہے ، گردوں پہ گز
Copyright © 2012 Pakistan Press Club






