KARACHI UNION OF JOURNALISTS
پریس ریلیز
کراچی11جون 2011: سپریم کورٹ آف پاکستان کے سابق جج اور سابق گورنر سندھ فخر الدین جی ابراہیم نے رینجرز کے ہاتھوں سرفراز شاہ کے سفاکانہ قتل کی پرزور مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ظلم اور سرکاری دہشت گردی اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ لوگ سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ وہ ہفتہ کی سہ پہر کراچی پریس کلب کے باہر کراچی یونین آف جرنلسٹس(دستور) اور کرائم رپورٹرز ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام مقامی ٹی وی چینل کے رپورٹر سالک شاہ کے بھائی سرفراز شاہ کی رینجرز کے ہاتھوں سفاکانہ قتل اور واقعے فلم بندی کرنے والے آوازٹی وی چینل کے کیمرہ مین عبدالسلام کو ملنے والی دھمکیوںکے خلاف احتجاجی مظاہرے سے خطاب کررہے تھے۔ مظاہرے سے سابق صدر کراچی پریس کلب امتیاز خان فاران، نائب صدر عامر لطیف، کے پی سی کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل محمد عارف خان، کرائم رپورٹر ایسوسی ایشن کے سمیر قریشی اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔مظاہرے میں صحافیوں کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی، صحافیوں نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اور بینرز اٹھا رکھے تھے جس پر ''سرفراز شاہ کے قاتل اہلکاروں کو بوٹ بیسن پر سرعام پھانسی دو ''سمیت دیگر عبارات درج تھیں۔ فخر الدین جی ابراہیم نے کہا کہ ملک میں آئین اور قانون کی بالادستی ہونی چاہئے۔ کوئی ادارہ قانون سے بالاتر نہیں ہے جو لوگ ظلم کے خلاف سڑکوں پر نکلے ہیں میں ان کو سلام پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی یونین آف جرنلسٹس(دستور) نے جس مشن کا بیڑا اٹھایا ہے اس کی میں مکمل حمایت کرتا ہوں اور اس کے ساتھ ہوں۔ محمد عارف خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ سیکورٹی اہلکاروں کا کام عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے لیکن شہر کراچی اور ملک کے مختلف علاقوں میں سیکورٹی اہلکار عوام کو کھلے عام گولیوں کا نشانہ بنا رہے ہیں ۔سرفراز شاہ کے قتل کا مقدمہ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں چلایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ رینجرز کو کراچی میں امن و امان کی فضاء قائم کرنے کے لئے بلایا گیا تھا تاکہ وہ لوگوں کی حفاظت کرے۔محمدعارف خان نے عبدالسلام سومروکورینجرزاور پولیس کی جانب سے ملنے والی دھمکیوں کی شدید الفاط میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اگرعبدالسلام سومرو کو کچھ ہوا تو اس کے تمام تر ذمہ دار رینجرزاور پولیس حکام ہوں گے۔سینئر صحافی اور کراچی پریس کلب کے سابق نائب صدرعامر لطیف نے کہا کہ دہشت گرد نہتے معصوم لوگوں پر گولیاں برساتے ہیں جس سے کتنے ہی معصوموں کی جانیں ضائع ہوجاتی ہیں اور جب رینجرز کو بلایا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ یہ ''ہمارا کام نہیں ''یا ''ہمیں گولی چلانے کا آرڈر نہیں''سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب دہشت گردی کے واقعات ہوں تو رینجرز خاموشی تماشائی بن جاتی ہے ۔ لیکن جب نہتے اور معصوم عوام کی بات آئے تو اُسے گولیوں سے بھون دیا جاتا ہے یہ کہاں کاانصاف ہے ؟ سرفراز شاہ نے خود کو رینجرز حوالے کردیا تھا لیکن پھر بھی اسے گولیوں سے کھلے عام قتل کردیا گیا جو کہ سیکورٹی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے اور لمحہ فکریہ ہے ۔ دریں اثناء کراچی یونین آف جرنلسٹس نے سینئر صحافیوں خورشید عباسی، ارباب چانڈیو، منظور سولنگی اور فیاض وڑائچ کے خلاف اغواء کی ایف آئی آر درج ہونے کے خلاف شدید الفاظ میں مذمت کی۔
- There are no comments yet







